تاریک سایہ

 

تاریک سایہ



رات گہری اور خاموش تھی۔ پرانی حویلی کی کھڑکیوں سے مدھم چاندنی چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔ کمرے میں صرف ایک مدھم بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی میں دھول سے اٹی فرنیچر کی دھندلی شکلیں نظر آ رہی تھیں۔ عائشہ، ایک نوجوان صحافی، اس حویلی میں ایک پرانے راز کی تلاش میں آئی تھی۔ یہ حویلی اس کے دادا کی تھی، جو برسوں پہلے پراسرار حالات میں غائب ہو گئے تھے۔

عائشہ کے ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری تھی۔ اس نے ڈائری کا ایک صفحہ کھولا، جس پر عجیب و غریب تحریریں لکھی ہوئی تھیں۔ "سایہ... تاریکی... راز کھل جائے گا..." اس نے سرگوشی کی۔ ڈائری میں لکھی باتیں اسے خوفزدہ کر رہی تھیں۔

اچانک، حویلی کے ایک کونے سے ایک ہلکی سی آواز آئی۔ عائشہ نے ڈرتے ڈرتے آواز کی سمت دیکھا۔ وہاں ایک پرانی تصویر گری پڑی تھی۔ اس نے تصویر اٹھائی۔ تصویر میں ایک شخص تھا، جس کا چہرہ دھندلا تھا۔

"یہ کون ہے؟" عائشہ نے خود سے پوچھا۔

اسی لمحے، کمرے کی ساری بتیاں بجھ گئیں۔ اندھیرا چھا گیا۔ عائشہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنی ٹارچ نکالی اور روشنی ڈالی۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ لیکن، اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔

"کون ہے؟" عائشہ نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔



جواب میں، صرف خاموشی تھی۔

عائشہ نے ٹارچ کی روشنی میں کمرے کا جائزہ لیا۔ اچانک، اس کی نظر ایک دیوار پر پڑی۔ دیوار پر ایک خفیہ دروازہ تھا۔ عائشہ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔

اندر ایک تاریک سرنگ تھی۔ عائشہ نے ٹارچ کی روشنی میں سرنگ میں چلنا شروع کیا۔ سرنگ کے آخر میں، اسے ایک کمرہ ملا۔ کمرے میں ایک پرانی صندوق پڑی تھی۔

عائشہ نے صندوق کھولی۔ صندوق میں ایک پرانی کتاب تھی۔ اس نے کتاب کھولی اور پڑھنا شروع کیا۔ کتاب میں اس کے دادا کے راز لکھے ہوئے تھے۔ اس کے دادا ایک قدیم خزانے کی تلاش میں تھے۔ اور یہ حویلی اسی خزانے کا راز چھپائے بیٹھی تھی۔

اچانک، عائشہ نے ایک زوردار آواز سنی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، تو ایک سایہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سایہ اس کے دادا کا تھا۔

"تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" سائے نے غصے سے پوچھا۔

عائشہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا، "میں آپ کا راز جاننا چاہتی ہوں۔"

سائے نے ہنس کر کہا، "تم کبھی نہیں جان پاؤ گی۔ یہ راز میرے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا۔"

سائے نے عائشہ پر حملہ کیا۔ عائشہ نے اپنی ٹارچ سے سائے پر وار کیا۔ سایہ غائب ہو گیا۔ عائشہ نے بھاگ کر حویلی سے باہر نکلی۔

وہ جان چکی تھی کہ یہ حویلی ایک راز چھپائے بیٹھی ہے، اور یہ راز اس کے دادا کی موت کا سبب بنا تھا۔ اب وہ اس راز کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی تھی۔ لیکن کیا وہ کامیاب ہو پائے گی؟ کیا یہ راز اس کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوگا؟

یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ عائشہ کے سفر کا آغاز ابھی باقی ہے۔



Comments